مثالی کردار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایسا کردار جس کی تقلید کی جا سکے جو دوسروں کے لیے نمونہ یا مثال ہو۔ "غزل میں مرکزی حیثیت شاعر کی شخصیت کو نہیں بلکہ اس خیالی یا مثالی کردار کو حاصل تھی جسے تمام شعرائے غزل کے لیے ایک قدر مشترک کی حیثیت حاصل تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور (غالب نمبر) تنقید غالب کے سو سال، ٥٦٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مثالی' کے بعد فارسی اسم 'کردار' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٩ء، کو "صحیفہ، غالب نمبر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایسا کردار جس کی تقلید کی جا سکے جو دوسروں کے لیے نمونہ یا مثال ہو۔ "غزل میں مرکزی حیثیت شاعر کی شخصیت کو نہیں بلکہ اس خیالی یا مثالی کردار کو حاصل تھی جسے تمام شعرائے غزل کے لیے ایک قدر مشترک کی حیثیت حاصل تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور (غالب نمبر) تنقید غالب کے سو سال، ٥٦٣ )

جنس: مذکر